ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / عالمی خبریں / دہلی - این سی آر میں پٹاخہ کی فروخت اور اسٹاک رکھنے پرپابندی جاری رہے گی:سپریم کورٹ

دہلی - این سی آر میں پٹاخہ کی فروخت اور اسٹاک رکھنے پرپابندی جاری رہے گی:سپریم کورٹ

Fri, 10 Feb 2017 23:29:34    S.O. News Service

نئی دہلی، 10/فروری (ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا)دہلی اور این سی آر کے علاقہ میں پٹاخہ کی فروخت اور اسٹاک رکھنے پر روک جاری رہے گی۔سپریم کورٹ نے سی پی سی پی کو ہدایت دی ہے کہ این سی آر میں 450پٹاخہ فروشوں کے اسٹاک کی جانچ کرکے سپریم کورٹ کو رپورٹ دیں۔کورٹ نے کہا کہ فی الحال اسٹاک رکھنے والوں پر کاروائی نہ کی جائے۔کورٹ نے کہا کہ اجازت دینے سے پہلے یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ ان لوگوں کے پاس کتنا اسٹاک ہے،ساتھ ہی ایسا بھی نہیں ہونا چاہیے کہ ساری آلودگی ممبئی پہنچ جائے، اس لیے یہ بھی تجویز دی  جائے کہ ان پٹاخوں کاکیا کیا جائے؟پٹاخہ فروشوں نے سپریم کورٹ میں عرضی دائر کرکے مطالبہ کیا ہے کہ دہلی اوراین سی آر کے پٹاخہ فروشوں کو سپریم کورٹ اپنے فیصلہ میں ترمیم کرکے راحت دے، کیونکہ ان کے لائسنس معطل ہو چکے ہیں، اس لیے  سپریم کورٹ انہیں پرانے اسٹاک این سی آر سے باہر فروخت کرنے کی اجازت دے۔اس فیصلہ کے بعد ان کے خلاف ایف آئی آردرج ہو رہی ہیں اور بیچنے والے پریشان ہیں،یہ شادیوں کا موسم ہے، ایسے میں انہیں راحت دی جائے۔واضح رہے گزشتہ سال 25/نومبر کو دہلی اور اس کے آس پاس کے علاقوں میں پٹاخوں کی فروخت پر سپریم کورٹ نے فوری طور پر روک لگا دی تھی۔سپریم کورٹ نے مرکزی حکومت کو پورے این سی آر میں پٹاخوں کی فروخت کے لیے کوئی نیا لائسنس نہیں دینے اور پہلے سے جاری لائسنس کو معطل کرنے کے احکامات دیئے تھے۔اس کے ساتھ ہی کورٹ نے اپنے حکم میں کہا تھا کہ سی پی سی بی تین ماہ میں رپورٹ داخل کر کے بتائے کہ پٹاخوں میں کس طرح کے موادکا استعمال کیا جا رہا ہے۔سپریم کورٹ نے پٹاخوں کے خلاف تین بچوں کی عرضی پر یہ فیصلہ سنایا۔سپریم کورٹ نے اس سے پہلے ہی اشارہ دیا تھا کہ دہلی میں پٹاخوں کی فروخت پر روک لگ سکتی ہے۔معاملے کی سماعت کے دوران عدالت نے کہا کہ جس طرح ڈرنک کرنے والوں کو صرف بہانہ چاہیے، خوشی ہو یا غم، انہیں تو بس پینے کا موقع چاہیے، ٹھیک اسی طرح پٹاخے کو لے کر بھی لوگ یہی کرتے ہیں۔حقوق کو لے کر لوگوں کا سپریم کورٹ میں فریادکرنا کوئی نہیں بات نہیں ہے، لیکن یہ اپنی نوعیت کا الگ معاملہ ہے، جب 6سے 14ماہ کے بچوں نے سپریم کورٹ میں عرضی دائر کرکے صاف ہوا میں سانس لینے کے حق کا مطالبہ کرتے ہوئے ہدایت دینے کی اپیل کی تھی۔اس درخواست میں اپیل کی گئی تھی کہ دسہرہ اور دیوالی جیسے تہواروں پر پٹاخوں کی فروخت پر روک لگائی جائے۔ان بچوں ارجن گوپال، آرو بھنڈاری اور زویا راؤ کی طرف سے ان کے والدین نے دائرکی گئی مفاد عامہ کی عرضی میں کہا کہ دہلی میں فضائی آلودگی کی وجہ سے حالات خراب ہو رہے ہیں، دہلی میں تہوار کے وقت پٹاخوں کی وجہ سے کئی طرح کی بیماریاں بھی ہو رہی ہیں۔ اس کے علاوہ روکنے کے باوجود کھلے میں ملبہ بھی پھینکا جا رہا ہے، اس کے ساتھ ہی دارالحکومت کے اردگردتقریباََ500ٹن فصلوں کے باقیات جلائے جاتے ہیں۔اتنا ہی نہیں ٹرکوں کی وجہ سے آلودگی بڑھتی جا رہی ہے اور ان کی وجہ سے پھیپھڑے سے متعلق بیماریوں میں اضافہ ہو رہا ہے، ایسے میں سپریم کورٹ کوئی مضبوط ہدایات جاری کرے اورآلودگی پر روک لگائے۔
 


Share: